mokoko

سستی اور کاہلی ایک مرض ہے

جسمانی طور سستی کا شکار ہونا یا تھکاوٹ طاری رہنے سے صحت پر بہت زیادہ منفی اثرات  قائم ہوتے ہیں اور نتیجتاً کوئی  بھی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

جو لوگ ایک دن میں 8 گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان کی جسمانی توانائی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ 

یومیہ 8 گھنٹے سونا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں اور جو لوگ نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، ان کی جسمانی توانائی گھٹتی چلی جاتی ہے اور سستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 

تیزی سے  بڑھتی معاشی ضروریات نے ایک تو انسان کو مصروف کردیا ہے، دوسرا ذہنی تھکاوٹ کا شکار بھی بنا دیا ہے اسی  لیے اکثر لوگ  بنا کسی کام کاج کے بھی تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں اور ان کا کسی کام میں جی نہیں لگتا۔ 

لہٰذا اس حوالے سے ماہرین طب کی طرف سے بہت سارے ایسے اسباب بتلائے گئے ہیں جن پر قابو پاکر اس صورتحال سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

آئرن کی کمی اور انیمیا کا مرض 

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئرن اور خون کی کمی یعنی اینیمیا بغیر کسی وجہ کے مسلسل تھکاوٹ کا سبب بن سکتی ہیں، کھانے میں آئرن کی کمی بے دلی اور سستی کا سبب بنتی ہے جب کہ اینیمیا کا مسئلہ زیادہ تر خواتین ہوتی کو ہوتا ہے لیکن مرد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں، 

آج کے دورمیں نوجوان مرد و خواتین زیادہ تر اس بیماری کا شکار ہورہے ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے نجات کا واحد طریقہ ایسی غذا کا استعمال ہے جو آئرن سے بھرپورہو اس کے لیے اپنی غذا میں سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں۔

کرونک فیٹیگ سینڈروم 

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ کرونک فیٹیگ سینڈروم (سی ایف ایس) ایسا  مرض ہے جو انسان کی سستی اور کاہلی میں اضافہ کرکے ساری زندگی کا نظام درہم برہم کردیتی ہے اسی لیے اس بیماری سے متاثرہ لوگ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ پوری نیند کرلینے کے باوجود ان کے جسم سے سستی نہیں جاتی۔ 

ڈاکٹرز کے مطابق اس بیماری کی اصل وجہ تو، غیر واضح ہے تاہم ہارمونز میں عدم توازن، وائرل انفیکشن، قوت مدافعت میں کمی اور اسٹریس اس کی وجہ ہوسکتی ہے، ہرمریض میں اس کا علاج الگ ہوتا ہے جس میں تھراپی بھی شامل ہے۔

دوران خون اورشوگر کا عدم توازن 

طبی ماہرین کے مطابق مسلسل تھکاوٹ اورکاہلی کی ایک وجہ دوران خون اور شوگر کا عدم توازن ہے جس کی وجہ سے ایسا آدمی  ہر کام بے دلی سے کرتا ہے اور کاہلی کا شکار رہتا ہے۔ 

جب کہ اسکی علامات میں ٹوائلٹ کا زیادہ استعمال اور ہر وقت پیاس محسوس کرنا شامل ہے۔ 

بلڈ پریشر اور شوگر کا ٹیسٹ سے ریگولر کرائیں اور لیول کے مطابق علاج کریں۔

ذہنی دباؤ کا شکار ہوجانا

مسلسل ذینی دباؤ اوراسٹریس بھی انسان کے اندرسستی اور کاہلی پیدا کردیتی ہے جو اسے عملی کام سے دور کر سکتی ہے۔ 

اس لیے ضروری ہے کہ ایسی صورت میں دماغی صحت سے متعلق ڈاکٹرز کے پاس جانے میں شرم محسوس نہ کریں۔

 اگر آپ بھی مذکورہ کسی بیماری کی وجہ سے، کسی ذہنی پریشانی کی وجہ سے تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں،  معاشی تنگی کے سبب مسلسل محنت و مشقت آپ کو تھکا دیتی ہے، یا بڑی عمر کے سبب جلد سستی محسوس کرنے لگ جاتے ہیں یا دیگر کوئی بھی وجوہات آپ کو تھکا دیتی ہیں تو آپ کے مسئلے کا حل ہم لیکر آئے ہیں

ابھی ہماری ویب سائٹ یا واٹس ایپ پر رابطہ کرکے

MOKOKO 

آرڈر کریں اور مذکورہ تمام مسائل سے چھٹکارا پاکر چاق و چوبند رہیں، ایک پرسکون زندگی گزاریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

What Our Clients Say
31 reviews